آخر الزمان

آخر الزمان (انگریزی: End time، عربی: نهاية الزمان) مستقبل میں ہونے والے مدت وقت کا نام ہے۔ جس کے متعلق دنیا کے مذاہب (بشمول ابراہیمی مذاہب اور غیر ابراہیمی مذاہب) کا عقیدہ ہے کہ دنیا کے واقعات ایک حتمی عروج حاصل کرے گا۔

اسلام میں

قرآن کريم نے متعدد آيات ميں دورہ آخرالزمان کی طرف اشارہ کیا ہے [1][2][3][4][5][6][7][8][9] اور اسلامی معارف ميں بھی با رہا "آخر الزمان" کی اصطلاح کو دو معانی ميں استعمال کیا گیا ہے :

  1. وہ زمانہ جو پيغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ولادت سے شروع ہوکر عظيم رستاخيز يا آخرت کے آغاز پر اختتام پزیر ہوگا، اسی بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو نبی آخر الزمان کا لقب ملا ہے۔[10]
  2. وہ زمانہ جو امام مہدی (عج) کے ظہور سے شروع ہوتا ہے اور عصر غيبت و ظہور کے تمام واقعات کو اپنے بطن ميں لے کر، قيامت کے آغاز پر اختتام پذير ہوتا ہے - اور اس زمانے ميں "آخرالزمان" سے يہي مراد لی جاتی ہے اور اس لفظ کے یہی معنی ہیں ؛ آخرالزمان کی اس قسم کے بھی دو مرحلے ہيں :
  • پہلا دور، جب انسان اخلاقی زوال کے آخری مراحل تک پہنچتا ہے، اخلاقی برائياں اور ظلم و ستم تمام انسانی معاشروں ميں پھیل جاتا ہے اور بروايتے دنيا ظلم و جور سے بھر جاتی ہے۔
  • دوسرا دور، جب اللہ کا وعدہ پورا ہوگا اور نجات دہندہ ظہور کريں گے اور عالمی حکومت تشکيل ديں گے اور کفر و ظلم کے خلاف جدوجہد کريں گے اور عالم وجود کو عدل و انصاف سے مالامال کريں گے - امام رضا فرماتے ہيں :
اللہ تعالیٰ قائم (عج) کے ہاتھوں سے زمين کو ہر ظلم و ستم سے پاک کرے گا اور لوگوں کے درميان ميزان عدل رکھے گا"۔[11]

وقت کا يہ حصہ ـ جو آخرالزمان کہلاتا ہے ـ بعض علائم اور نشانيوں کا حامل ہے جن ميں سے بعض کی طرف اشارہ کريں گے۔

واضح رہے کہ ان خصوصيات کا تعلق آخر الزمان کے پہلے مرحلے سے تعلق رکھتا ہے جس ميں انسان اخلاقی زوال اور فساد و برائی کے آخری مراحل تک پہنچتا ہے :

منفعت طلبانہ اور استحصالی روابط

انسان دوسرے انسان کے ساتھ تعلق ميں منافع اور سرمائے کو مطمح نظر فرار ديتا ہے اور اسی محرک کی روشنی ميں معاشرتی روابط و تعلقات کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمايا:

… آخر الزمان ميں بعض اقوام مسلمانوں پر غالب ہونگی اور جب مسلمان بولنے کے لیے منہ کھوليں گے، انہيں قتل کرتے ہيں اور اگر منہ بند رکھيں تو ان کا خون مباح سمجھتے ہيں تا کہ ان (مسلمانوں) کی آمدنی کے وسائل پر قبضہ کريں۔۔[12]

دين سے فرار

محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس دور کے انسانوں کی خصوصيات بيان کرتے ہوئے فرمايا:

لوگوں پر ايسا دور آئے گا جب ان کا دين ان کی ذاتی خواہشات سے وابستہ ہوگا، ان کي ہمت ان کے پيٹ تک محدود ہوگی، ان کی عورتيں ان کا قبلہ ہوں گی، سونے اور چاندی کے لیے رکوع و سجود کريں گے، وہ ہر وقت حيرت زدہ اور مست و غافل ہوں گے نہ وہ مسلمانی کے مذہب پر ہوں گے اور نہ نصرانيت پر"۔[13]

دنيا پرستی

محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمايا:

ميری امت پر ايسا دور آئے گا جب لوگوں کا باطن پليد ہو جائے گا ليکن ان کي ظاہری صورت مال اور دنيا کی لالچ کي خاطر آراستہ ہوگی؛ وہ ان چيزوں سے دل بستہ نہ ہونگے جو اللہ کے پاس ہے، ان کا کام ريا اور دکھاوا ہے؛ خوف خدا ان کے دل ميں داخل نہ ہوگا اور خداوند متعال انہيں عذاب سے دوچار کرے گا- وہ ڈوبنے والوں کی طرح خدا کو پکارتے ہيں ليکن خداوند ان کي دعا مستجاب نہيں کرے گا"[14]

بڑی آزمائشیں

آخرالزمان کی خصوصيات ميں سے ايک وہ امتحانات اور آزمائشات ہيں جو انسانوں کو درپيش ہيں - علی بن ابی طالب فرماتے ہيں :

اور يہ وہ زمانہ ہے جب فتنوں سے نجات نہ پائيں گے سوائے وہ مۆمنين ـ جو بے نام و نشان ہيں ـ اگر حاضر ہوں تو انجانے ہيں اور غائب ہوں تو کوئی ان کا پتہ نہيں پوچھتا، وہ معاشروں کي ظلمانی رات ميں سير کرنے والوں کے لیے چراغ ہدايت اور روشن نشان ہيں، نہ تو فساد اور برائی کے خواہاں ہيں اور فتنہ انگيز ہيں، نہ فحشاء اور بدکاری کو رواج دينے والے ہيں اور نہ ہی نادان اور بيہودہ گو ہيں! يہ وہی لوگ ہيں جن کے لیے خدا اپنی رحمت کے دورازے کھول ديتا ہے اور سختيوں اور مشکلات کو ان سے دور کرتا ہے"۔[15]

مسیحیت میں

مسیحی قیامت المسیح پر یقین رکھتے ہیں۔ مسیحیوں کے ہاں اس دور کی بات ہوتی ہے جب یسوع مسیح کی واپسی ہوگی۔ کتاب مقدس میں عیسیٰ کی رجعت کی طرف 300 سے زائد مرتبہ اشارا کیا گیا ہے اور کئی مستقل ابواب کا تعلق اسی موضوع سے ہے۔[16][17][18] حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ رجعت مسیح کے صحیح ادراک کا ماخذ کتاب مقدس ہے۔[19] مسیحی عقائد کے مطابق یسوع مسیح آخر الزمان میں دوبارہ پلٹ کر آئیں گے اور اپنے نجات کو منصوبے کو مکمل کریں گے۔[20][21] مزید برآں ان کا خیال ہے کہ یسوع مسیح کی واپسی کے بعد دنیا سعادت سے روشناس ہو جائے گی اور اس نجات دہندہ کے ظہور کے بعد دنیا مکمل صلح و آشتی کا گہوارہ بنے گی[22] اور جنگ اور خونریزی کا مکمل خاتمہ ہوگا اور کوئی امت دوسری امت کے خلاف تلوار نہيں کھینچے گی۔[23] مسیحی تعلیمات اور کتاب مقدس کے مطابق اس دور میں باطل پر حق کا غلبہ مکمل طور پر واضح و آشکار ہوگا[20] اور ان کے خیال میں نجات دہندہ عیسیٰ ہی ہیں[22][24] اور عیسیٰ ہی ہیں جو اس دنیا کے اختتام کو بہت قریب دیکھتے تھے اور لوگوں کو توبہ کرنے کی دعوت دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ”صرف وہ لوگ بخشے جائیں گے اور فلاح یافتہ ہوں گے جو اس دن کے آن پہنچنے سے قبل اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کریں گے اور اللہ کی رحمت سے مستفیض و مستفید ہونے کے لائق و حقدار ہوں گے “۔[25][26]

بائبل میں یسوع مسیح کے ظہور کی نشانیاں

  1. مسیح ایسے زمانے میں ظہور کریں گہ جب لوگ مجرم ہوں گے اور دنیا پر ظلم چھایا ہوا ہوگا؛[27]
  2. ایک قوم دوسری قوم کے خلاف جنگ کرے گی۔ ایک سلطنت دوسری سلطنت کے خلاف لڑے گی اور قحط سالیاں ہوں گی۔ خطوں میں زلزلے آئیں گے۔[28]
  3. ان دنوں کی مصیبتوں کے فوراً بعد یہ واقعہ پیش آئے گا:

سورج تاریک ہو جائے گا۔ اور چاند کی روشنی ماند پڑ جائے گی۔ اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے۔ نیلگوں آسمان کی تمام قوتیں لرز جائیں گی[29][30]

  1. عیسیٰ کے ظہور سے قبل دجال کا ظہور ہوگا۔[31][32]

یہودیت میں

یہودیت میں آخری ایام یا خدا کا دن (یوم یہواہ) کی طرف بار بار اشارہ ہوا ہے اور یہ وہ دور ہے جب یہودی قوم کی عظمت اپنی انتہا تک پہنچے گی اور گنہگار نیست و نابود ہوجائیں گے [33] اور یسی (داؤد کے باپ) کی نسل سے ایک بادشاہ جس پر خدا کی روح قرار پائی ہے ـ اور صاحب حکمت اور خدا کا خوف رکھنے والا ہے ـ ظہور کرے گا اور دنیا کو عدل اور خیر و برکت سے پر کرے گا اور حالت یہ ہوگی کہ بھیڑیا دنبے کے ساتھ رہے گا اور چیتا بکرے کے ساتھ ایک مقام پر آرام کرے گا۔[34][35][36][37][38][39]یہودی عقائد کے مطابق مسیح بادشاہ داؤد کی نسل سے ہوگا اور ربی کے ادبیات میں "بن داؤد" کے نام سے مشہور ہے۔[40] مسیح کو بائبل میں مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے اور بائبل کی وہ آیات جو یہودی علما کی تفسیر کے مطابق مسیح کی طرف اشارہ کرتی ہیں ـ[41][42][43][44]

مسیح کے دور کے حالات

  • یروشلم کی تعمیر نو ہوگی۔[45]
  • ویرانیاں ختم ہوں گی۔[46]
  • پورے عالمِ فطرت میں صلح و امن قائم ہوگا۔ یہاں تک کہ بدترین دشمن جانور بھی آپس میں دوست ہونگیں جیسے بیل اور شیر۔[47]
  • دنیا بھر میں غم اور جنگ کا خاتمہ ہوگا۔[48]
  • دنیا سے موت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔[49]

زرتشتیت میں

زرتشتیت میں بھی آخر الزمان کے نجات دہندہ کے ظہور پر ایمان رکھا جاتا ہے۔ زرتشتیت کے مطابق ایک کیہانی یا کائناتی قوت یا "خیر کی روح" یعنی ”اہرمزد“ اور ایک متضاد آسمانی قوت یا "شر کی روح" یعنی ”اہریمن“ خودنمائی کرتی ہیں۔ تاریخ کے آغاز سے آخر الزمان تک یہ دو نام باہمی جنگ و نزاع میں مصروف ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں خیر شر پر غلبہ پائے گی اور صلح و پاکیزگی اور اہرمزد کی سربلندی کا دور شروع ہوگا اور سوشیانس کی آمد کے ساتھ ہی آخر الزمان کا آغاز ہوگا۔[50]

بہائیت میں

بہائیت کے بانی بہاء اللہ نے عیسیٰ کے ظہور کا دعویٰ کیا ہے۔[51] اس سے پہلے دیگر مذاہب میں بھی عیسیٰ نجات دہندہ کے طور پر بتائے گئے ہیں، یہودیت کے مطابق نجات دہندہ داؤد بادشاہ کی نسل سے ہوگا (جو ”عیسیٰ“ ہیں۔ )، مسیحیوں میں آمد ثانی کا عقیدہ ہے۔ اور آمد ثانی کا عقیدہ بہائیت میں بھی ہے۔[52][53]

ہندومت میں

ہندوؤں کا ایمان ہے کہ شری بھگوان وشنو کا دسواں اوتار کلکی آخر الزمان میں نمودار ہوگا۔[54]

بدھ مت میں

بدھ مت کے ماننے والے میتریا (ایک بدھ) کے واپس آنے کے منتظر ہیں۔

حوالہ جات