مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی

سندھ سے تعلق رکھنے والے اٹھارویں صدی کے محدث، فقیہ اور شاعر

شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی (پیدائش: 19 نومبر 1692ء — وفات: 11 فروری 1761ء) اٹھارہویں صدی عیسوی میں سندھ کے علم و ادب کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت یافتہ عظیم محدث، یگانۂ روزگار فقیہ محدث، مفسر، سیرت نگار اور قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کی تصانیف و تالیفات عربی، فارسی اور سندھی زبانوں میں ہیں۔ انھوں نے قرآن، تفسیر، سیرت، حدیث، فقہ، قواعد، عقائد، ارکان اسلام یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سمیت کئی اسلامی موضوعات پر کتب تحریر و تالیف کیں، کتب کی تعداد بعض محققین کے اندازے کے مطابق 300 ہے اور بعض کے مطابق 150 سے زیادہ ہے۔ ان کی گراں قدر تصانیف مصر کی جامعہ الازہر کے نصاب میں شامل ہیں۔ کلہوڑا دور کے حاکمِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑا نے انھیں ٹھٹہ کا قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کیا۔ انھوں نے بدعات اور غیر شرعی رسومات کے خاتمے کے لیے حاکم وقت سے حکم نامے جارے کرائے۔ ان کی وعظ، تقریروں اور درس و تدریس متاثر ہو کر بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔[1] ان کے مخطوطات کی بڑی تعداد بھارت، سعودی عرب، ترکی، پاکستان، برطانیہ اور یورپ کے بہت سے ممالک کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ پاکستان خصوصاً سندھ اور بیرونِ پاکستان میں ان کی کتب کے مخطوطات کی دریافت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

شیخ الاسلام
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کا عربی زبان میں خطاطی نام
معروفیتمحدث، فقیہ
پیدائشبدھ 10 ربیع الاول، 1104ھ/ 19 نومبر 1692ء
میر پور بٹھورو، ٹھٹہ، سندھ (موجودہ پاکستان)
وفاتبدھ 6 رجب 1174ھ بمطابق 11 فروری، 1761ء
(مدت حیات: 70 سال 3 ماہ 26 دن قمری، 68 سال 2 ماہ 23 دن شمسی)
ٹھٹہ، سندھ، (موجودہ پاکستان)
مدفنمکلی قبرستان، ضلع ٹھٹہ، سندھ (موجودہ پاکستان)
نسلسندھی
عہدمغل دور
شعبۂ زندگیسندھ
مذہباسلام
فقہحنفی
مکتب فکرقادری
شعبۂ عملفقہ، قرآن، تفسیر، حدیث
کارہائے نماياںمدح نامہ سندھ
تفسیر ہاشمی
التحفة المرغوبة في أفضلية الدعاء بعد المكتوبة
بذل القوة في حوادث سني النبوة
وسیلۃ القبول في حضرت رسول
مظھر الانوار
بیاض ھاشمی
جنة النعيم في فضائل القرآن الكريم
مؤثر
  • مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹوی
    سید سعد اللہ شاہ قادری سلونی سورتی
    مخدوم ضیاء الدین ٹھٹوی
    مخدوم عبد الغفور ٹھٹوی
    مخدوم محمد سعید ٹھٹوی
    مخدوم رحمت اللہ ٹھٹوی
    شیخ عبد القادر حنفی صدیقی مکی
    شیخ عبد بن علی مصری
    شیخ ابو طاہر محمد مدنی
    شیخ علی بن عبد المالک دراوی
متاثر
  • مخدوم ابو الحسن صغیر ٹھٹوی مدنی
    مخدوم عبد الرحمان ٹھٹوی
    مخدوم عبد اللطیف ٹھٹوی
    شاہ فقیر اللہ علوی شکارپوری
    مخدوم عبد الخالق ٹھٹوی
    سید صالح محمد شاہ جیلانی گھوٹکی والے
    مخدوم نور محمد نصرپوری

پیدائش

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی بروز بدھ 10 ربیع الاول 1104ھ [2] (بمطابق 19 نومبر، 1692ء) کو میر پور بٹھورو، ٹھٹہ، سندھ (موجودہ پاکستان) میں مخدوم عبد الغفور ٹھٹوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔[3][4][5][6]

خاندانی پس منظر

مخدوم محمد ہاشم کے والد مخدوم عبد الغفور ٹھٹوی، جو خود بھی ایک عالم تھے، پہلے سیہون میں رہائش پزیر تھے۔ بعد ازاں گردشِ زمانہ کی وجہ سے ٹھٹہ کے علاقے میر پور بٹھورو میں آباد ہو گئے۔ مخدوم محمد ہاشم ذات کے پنہور تھے اور ان کا نسب عرب قبیلے بنو حارث یعنی حارث بن عبد المطلب سے جا ملتا ہے[7] ۔ اس قبیلے کے کچھ افراد جہاد کی غرض سے محمد بن قاسم کے ساتھ پہلی صدی ہجری میں سندھ آئے تھے اور ان میں سے کچھ افراد نے تبلیغِ اسلام کو فروغ دینے کے لیے یہیں سکونت اختیار کرلی تھی۔ انھیں سے مخدوم محمد ہاشم کے آبائے کرام کا نسب جا ملتا ہے۔[6]

تعلیم

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کا تعلق علمی گھرانے سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد مخدوم عبد الغفور ٹھٹوی سے حاصل کی۔ یہیں حفظِ قرآن مکمل کیا اور فارسی، صرف و نحو، فقہ کی تعلیم بھی اپنے والد سے حاصل کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے ٹھٹہ شہر کا رخ کیا جو اس وقت علم و ادب کے حوالے سے تمام دنیا میں مشہور تھا۔ یہاں انھوں نے مخدوم محمد سعید ٹھٹوی سے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ پھر مخدوم ضیاء الدین ٹھٹوی سے علم حدیث کی تعلیم حاصل کی اور یوں صرف 9 برس کی عمر میں فارسی اور عربی علوم کے مطالعوں کی تکمیل کی۔ اسی دوران میں 1113ھ / 1702ء میں مخدوم ہاشم کے والد بزرگوار مخدوم عبد الغفورٹھٹوی وفات پاگئے۔ مخدوم ہاشم کو 1135ھ / 1722ء میں حجازِ مقدس کے سفر کے دوران میں تحصیلِ علم کا موقع ملا اور انھوں نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مکہ اور مدینہ منورہ کے مشہور علما اور محدثین سے علم حدیث، فقہ، عقائد اور تفسیر کا علم حاصل کیا اور سندیں حاصل کیں[8] ۔ مخدوم ہاشم کے سندھ کے مشہور اساتذہ میں ان کے والد مخدوم عبد الغفور ٹھٹوی، مخدوم محمد سعید ٹھٹوی، مخدوم ضیاء الدین ٹھٹوی، مخدوم رحمت اللہ ٹھٹوی اور مخدوم محمد معین ٹھٹوی کے نام سرِ فہرست ہیں[9] ۔ اس کے علاوہ مخدوم ہاشم نے سفر حرمین کے دوران میں جن اساتذہ کرام سے علم حاصل کیا ان میں شیخ عبد القادر حنفی صدیقی مکی (متوفی 1138ھ / 1726ء)، شیخ عبد بن علی مصری (متوفی 1140ھ / 1728ء)، شیخ ابو طاہر محمد مدنی (متوفی 1145ھ / 1733ء) اور شیخ علی بن عبد المالک دراوی (متوفی 1145ھ / 1733ء) شامل تھے۔[10]

درس و تدریس

دار العلوم ہاشمیہ کا قیام

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی نے تحصیلِ علم کے بعد بٹھورو کے نزدیکی گاؤں بہرام پور میں سکونت اختیار کی اور وہاں کے لوگوں کو دین اسلام کی اشاعت، ترویج کے لیے وعظ اور تقریرروں کا سلسلہ شروع کیا مگر وہاں کے لوگوں کو مخدوم ہاشم کے وعظ و تقریروں کی اہمیت کا اندازہ نہ ہوا، اسی لیے مخدوم صاحب دل برداشتہ ہو کر بہرام پور سے ٹھٹہ شہر میں آ گئے اور یہاں اگر محلہ میں جامع خسرو (دابگراں والی مسجد) کے قریب دار العلوم ہاشمیہ کے نام سے مدرسے کا بنیاد رکھا، جہاں انھوں نے حسب خواہش دین اسلام کی اشاعت و ترویج، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔[11]

ہاشمی مسجد

ہاشمی مسجد مخدوم محمد ہاشم کے محلہ میں واقع تھی۔ اسی مسجد میں مخدوم صاحب نے اپنی بہت سی لازوال تصانیف مکمل کیں۔ اسی مسجد سے انھوں نے دین اسلام کے فروغ اور استقامت کے لیے سندھ کے حکمرانوں کے نام خطوط لکھے۔ اسی مسجد میں انھوں نے فقہی مسائل پر فتاویٰ جاری کیں۔ مخدوم صاحب کا دستور تھا کہ وہ دن کے تیسرے پہر درسِ حدیث دیتے تھے۔ مخدوم صاحب کے بعد ان کے فرزند مخدوم عبد اللطیف ان کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور درس و تدریس کے ساتھ وعظ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ یہ مسجد تالپوروں کے عہد تک قائم رہی۔[12]

جامع خسرو

جامع خسرو کو دابگراں والی مسجد بھی کہا جاتا تھا کیوں کہ یہ مسجد دابگراں کے محلہ میں واقع تھی۔ یہ دوسری مسجد ہے، جس میں مخدوم محمد ہاشم ہر جمعہ کی صبح وعظ کیا کرتے تھے۔ مخدوم صاحب کے بعد ان کے فرزند مخدوم عبد اللطیف ٹھٹوی نے اپنے والد بزرگوار کے طریقہ کار کو جاری رکھا۔ اب نہ یہ محلہ موجود ہے اور نہ مکین، اس لیے یہ مسجد زبوں حالی کا شکار ہو گئی ہے۔[13]

شاگرد

  • سید شہمیر شاہ (مٹیاری والے) (متوفی 1177ھ / 1763ء)
  • مخدوم مئیڈنہ نصرپوری
  • مخدوم ابو الحسن صغیر ٹھٹوی مدنی (متوفی 1187ھ / 1773ء)
  • مخدوم عبد الرحمان ٹھٹوی (متوفی 1181ھ / 1768ء، مخدوم ہاشم کے بڑے فرزند)
  • مخدوم عبد اللطیف ٹھٹوی (متوفی 17 ذوالقعدہ 1189ھ، مخدوم ہاشم کے چھوٹے فرزند، 1187ھ میں والیٔ سندھ میاں سرفراز کلہوڑا کے دور میں قاضی مقرر ہوئے)
  • مخدوم نور محمد نصرپوری (والیٔ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑا کے لشکر میں قضا کے عہدے پر بھی مقرر ہوئے)
  • شاہ فقیر اللہ علوی شکارپوری (متوفی 3 صفر 1195ھ / 29 جنوری 1781ء)
  • مخدوم عبد الخالق ٹھٹوی
  • مخدوم عبد اللہ مندھرو (متوفی اندازہً 1238ھ / 1821ء)
  • سید صالح محمد شاہ جیلانی گھوٹکی والے (متوفی 11 شوال 1182ھ / 18 فروری 1769ء)
  • شیخ الاسلام مراد سیہوانی
  • عزت اللہ کیریو
  • حافظ آدم طالب ٹھٹوی
  • نور محمد خستہ ٹکھڑائی

منصبِ قضا

مخدوم محمد ہاشم نے ٹھٹہ میں رائج بدعات اور غیر اسلامی رسومات کو بند کرانے کے لیے حاکمِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑا سے ایک حکم نامہ جاری کرایا تھا۔ اس حکم نامہ کے اجرا کے بعد ٹھٹہ سے بری رسومات، بدعات، عورتوں کا قبروں پر جانا وغیرہ کا کسی حد تک خاتمہ ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے میاں غلام شاہ کلہوڑا کو مخدوم صاحب کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی لیکن اس کا نتیجہ ان سازشی لوگوں کے خلاف نکلا اور میاں غلام شاہ نے مخدوم صاحب کو ٹھٹہ کا قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کے عہدے پر فائز کر کے ہمیشہ کے لیے مخالفین کی طاقت کو ختم کر دیا۔[14]

سیر و سفر

بٹھورو سے ٹھٹہ

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کا پہلا سفر کم سنی میں بٹھورو سے ٹھٹہ بسلسلہ حصول تعلیم تھا۔[15]

سفرِ حرمین

دوسرا اور اہم سفر حرمین شریفین تھا جو حج کا فریضہ ادا کرنے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا حصول تھا۔ مخدوم محمد ہاشم نے یہ سفر 1135ھ / 1723ء کو 31 سال کی عمر میں کیا۔ اس سفر میں انھوں نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ علمِ حدیث، تفسیر، قواعد، فقہ اور قراََت کی تعلیم حاصل کی۔ انگریز مستشرق، مہم جو، مترجم، ماہر لسانیات اور جاسوس رچرڈ فرانسس برٹن (1821ء / 1890ء) کے مطابق

انہوں (محمد ہاشم ٹھٹوی) نے ہندوستان اور عربستان کا سفر کیا۔ عربی، فارسی زبانیں اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ کہتے ہیں کہ دورانِ سفر انہوں نے مسیحی پادریوں سے بہت سے مناظرے کیے اور ان کے مذہب پر بہت سے رسالے تحریر کیے۔

اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخدوم محمد ہاشم کے سفر خالصتاً علمی اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے تھے۔[16]

سورت بندر

مخدوم محمد ہاشم حرمین شریفین کے سفر سے واپسی پر مرشد کی تلاش میں سورت بندر کا سفر اختیار کیا اور سید سعد اللہ شاہ قادری سورتی سلونی (متوفی 27 جمادی الاول 1138ھ / 3 مارچ 1726ء) کے پاس حاضر ہوئے، سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت کا خرقہ حاصل کیا۔[17]

بھٹ شاہ

مخدوم محمد ہاشم نے بھٹ شاہ کے بہت سے سفر کیے اور شاہ عبد اللطیف بھٹائی سے ملاقاتیں کیں۔[17]

مٹیاری

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی نے مٹیاری کا سفر بھی اختیار کیا اور سید رکن الدین متعلوی جو اپنے وقت کے کامل ولی اور نہایت سخی بزرگ تھے، ان مسجد میں نماز ادا کی جس کے مطلق یہ روایت مشہور ہے کہ جو اس مسجد میں نمازِ پنجگانہ ادا کرے گا اس کو قیامت کے دن شفاعت نصیب ہوگی۔[18]

کھڑا

شہر کھڑا، ریاست خیرپور میں واقع ایک چھوٹا شہر ہے۔ یہ شہر قدیم عرصے سے علمی مرکز رہا ہے۔ یہاں مخدوموں کا خاندان آباد ہے۔ اس خاندان کے نسب کا سلسلہ ت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب سے جا ملتا ہے۔ اس خاندان سے مخدوم اسد اللہ شاہ (متوفی 966ھ / 1559ءجلال الدین اکبر کے دور میں سندھ کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر ہوئے تھے۔ کلہوڑا دور میں اس خاندان کے مخدوم عبد الرحمان شہید کُھڑائی ایک مشہور بزرگ و عالم گذرے ہیں، مخدوم محمد ہاشم اس بزرگ کے ہم عصر اور گہرے دوست تھے۔ روایت ہے کہ مخدوم محمد ہاشم نے شہر کھڑا کا سفر بھی کیا اور مخدوم عبد الرحمان شہید سے ملاقات کی۔[19]

سیہون

مخدوم محمد ہاشم کا آبائی وطن سیہون تھاجس کی وجہ سے ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ وہ لعل شہباز قلندر کی مزار پر بھی آئے، اس دور میں نماز کے وقت بھی دھمال جاری رہتا تھا۔ مخدوم محمد ہاشم کی کوششوں سے نماز کے اوقات میں دھمال پر پابندی لگی، یہ پابندی ابھی تک تک جاری ہے۔[20]

ہم عصر علمائے کرام

مخدوم محمد ہاشم کے عہد میں جن علمی شخصیات اور علمائے کرام نے اپنے وقت میں تاریخ کے صفحات پر اپنے اپنے علمی نشانات ثبت کر گئے، ان میں چند کے نام ذیل میں ہیں[21] :

سلسلہ طریقت

مخدوم محمد ہاشم نے حصولِ علم کے بعد روحانی تعلیم و تربیت اور اکتساب فیض کے لیے مرشدِ کامل کی تلاش شروع کی، جس کے نتیجے میں اس زمانے کی مشہور روحانی شخصیت مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مریدی میں قبول کرنے کی درخواست کی لیکن مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹوی نے مخدوم ہاشم کو سلسلہ قادریہ کی معروف شخصیت سید سعد اللہ شاہ قادری سلونی سورتی (متوفی 27 جمادی الاول 1138ھ / 31 جنوری 1726ء) کی جانب رجوع کرنے کا حکم فرمایا، لہٰذا مخدوم محمد ہاشم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہاں 1123ھ سے 1124ھ تک قیام کیا، بعد ازاں سید سعد اللہ سلونی نے مخدوم محمد ہاشم کو سلسلہ قادریہ کا خرقہ پہناتے ہوئے اجازت و خلافت سے نوازا۔[22]

اولاد

مخدوم محمد ہاشم کو اللہ نے دو فرزند عطا کیے:

مخدوم عبد الرحمان ٹھٹوی

مخدوم عبد الرحمان ٹھٹوی مخدوم محمد ہاشم کے بڑے فرزند تھے۔ ان کی ولادت 16 شوال 1131ھ بمطابق 1 ستمبر، 1719ء میں ہوئی۔ والد کے مریدین بیرونِ سندھ کاٹھیاواڑ اور کچھ میں بھی پھیلے ہوئے تھے۔ اس لیے مخدوم عبد الرحمان سندھ سے باہر مریدوں کو ہدایت اور تلقین کرنے کے لیے جاتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ مریدوں کے پاس کاٹھیاواڑ گئے ہوئے تھے، وہیں بروز ہفتہ 5 ربیع الاول 1181ھ بمطابق 1 اگست، 1767ء کو 51 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔[23] میر علی شیر قانع ٹھٹوی کے مطابق انھوں نے جوناگڑھ میں وفات پائی۔[24]

مخدوم عبد اللطیف ٹھٹوی

مخدوم عبد اللطیف ٹھٹوی، مخدوم محمد ہاشم کے چھوٹے فرزند تھے۔ ان کی ولادت بروز پیر 14 شعبان 1144ھ بمطابق 11 فروری، 1732ء میں ہوئی۔ قرآن کے حافظ، حدیث اور فقہ کے جید علما میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے والد کے کام کو سنبھالا اور ان کے جانشیں ہوئے۔ 1187ھ میں والیٔ سندھ میاں سرفراز کلہوڑا کے لشکر میں منصبِ قضا پر مامور ہوئے۔[25] وہ بروز منگل 17 ذوالقعدہ 1189ھ بمطابق 9 جنوری، 1776ء میں 45 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ مکلی ٹھٹہ میں اپنے والد کی مزار کے پاس مدفون ہوئے۔[26]

تصانیف

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی عظیم عالم دین اور کثیر التصانیف مصنف تھے۔ انھوں نے ایک اندازے کے مطابق 300 کتب فقہ، اسماء الرجال، قواعد، تفسیر، قرآن، سیرت النبی، علم عروض، ارکان اسلام، حدیث اور بہت سے اسلامی موضوعات پر عربی، فارسی، سندھی زبانوں میں تصنیف و تالیف کیں۔[27] مخدوم محمد ہاشم کی تمام کتب کا احاطہ تو ممکن نہیں البتہ ان میں سے کچھ دستیاب کتب کی تفصیل دی جا رہی ہے:

سندھی

نمبر شمارکتاب کا نامموضوعصنفصفحاتسن تحریرکاتب کا نامسن کتابتطبع جدیدمختصر جائزہ
1زادُ الفقیرفقہنظم53رمضان 1125ھشیخ عبد الرحمان بن شیخ عبد اللہمجتبائی پریس لاہور / یکم رجب 1312ھیہ کتاب شاعری میں ہے۔ اس کتاب میں رویت ہلال سے لے کر روزے کے تمام مسائل پر مختصر و جامع روشی ڈالی گئی ہے۔
2قوت العاشقینسیرت النبینظم3501127ھسندھ مسلم ادبی پریس حیدرآباد / 1369ھ بمطابق 1950ءیہ کتاب شاعری میں ہے اور اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے 186معجزات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ مخدوم محمد ہاشم کے ہاتھ کاتحریر کردہ ایک نسخہ رحیمیہ لائبریری بدین میں موجود ہے۔
3راحت المؤمنینفقہنظم561130ھمجتبائی پریس لاہور، 1312ھ
سندھی زبان کا با اختیار ادارہ حیدرآباد / 2009ء
یہ کتاب شاعری میں ہے اور اس میں ذبح و شکار کے مسائل پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے 25 کتابوں کے حوالاجات دیے ہیں۔
4سایہ نامہفقہنظم41133ھہری بالنگو بمبئی / 1289ھیہ کتاب شاعری میں ہے اور نماز ظہر کے وقت کے لیے دوپہر کے سائے کے تعین کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ مذکورہ کتاب مخدوم محمد ہاشم کی ایک کتاب مفتاح الصلوٰۃ (مطبع ہری بالنگو بمبئی) میں ضمیمے کے طور پر صفحہ 364 سے شامل ہے۔ اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ قاسمیہ لائبریری کنڈیارو میں موجود ہے۔
5بنا الاسلامعقائدنظم2645 ذوالحجہ 1143ھعبد الکریم / 1312ھ
عبد الحسین وینجھر ٹھٹوی / 1375ھ کراچی
یہ کتاب بھی سندھی نظم میں ہے اور اس میں عقائد کے متعلق مسائل پر تحریر کی گئی ہے۔ یہ کتاب مخدوم ہاشم کی عربی تصنیف فرائض الاسلام کا نچوڑ ہے۔
6تفسیرِ ہاشمیتفسیرنظم50417 شعبان 1162ھمطبع کریمی بمبئی / 1330ھ
سندھی ادبی بورڈ / 1987ء
قرآن کریم کی منظوم سندھی تفسیر ہے جسے مولانا غلام مصطفٰی قاسمی نے مرتب کر کے سندھی ادبی بورڈ سے شائع کرایا ہے۔
7تحفۃ التائبینفقہنظم11نا معلومنا معلومیہ کتاب بھی نظم میں ہے اور اس میں سچی توبہ کرنے کے بارے میں لکھ گیا ہے۔ اس کتاب کا سندھ میں واحد قلمی نسخہ بشیر احمد ہیسبانی کے پاس موجود ہے۔
8اصلاح مقدمۃ الصلواۃفقہنظمیہ کتاب مخدوم محمد ہاشم نے ٹھٹہ کے مشہور عالم میین ابو الحسن ٹھٹوی کی کتاب مقدمۃ الصلواۃ کے جواب میں تحریر کی۔ اس کا ایک قلمی نسخہ علامہ غلام مصطفٰی قاسمی کی لائبریری میں موجود ہے۔
9تنبیہ ناموںفقہنظم7مطبع مصطفائی لاہور / 1312ھ بمطابق 1894ءیہ کتاب شاعری میں ہے اور اس میں نماز پڑھنے کی تاکید اور بے نمازی کے عذاب، تنبیہ اور محرم اور عاشورہ میں ماتم اور تابوت بنانے کے حوالے سے تنبیہ درج ہے۔

عربی

نمبر شمارکتاب کا نامموضوعصنفصفحاتسن تحریرکاتب کا نامسن کتابتطبع جدیدمختصر جائزہ
1مظھر الانوارفقہنثر2101125ھ9 ذوالحجہ 1243ھیہ مخدوم محمد ہاشم کی اب تک معلوم ابتدائی عربی کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب روزے کے احکام اور مسائل پر تحریر کی گئی ہے۔ کتاب موضوع کے اعتبار سے جامع اور ضخیم ہے۔ اس کتاب کے قلمی نسخے درسگاہ چوٹیاری کے کتب خانہ، کتب خانہ درگاہ خیاری شریف تعلقہ سکرنڈ، ڈاکٹر غلام مصطفٰی قاسمی کے کتب خانے اور قاسمیہ لائبریری کنڈیارو میں موجود ہیں۔
2وسیلۃ القبول في حضرت رسولنثر49اسد اللہ خواجہ1300ھیہ کتاب مولوی ڈاکٹر محمد ادریس سومرو نے مرتب کر کے شائع کی ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ پروفیسر میر محمد سومرو کی محمدی لائبریری ہنگورجا میں موجود ہے۔
3فاكھة البستانفقہنثر3127 شعبان 1128ھمیاں عبد الرحمان بن محمد یعقوبیہ کتاب ذبح و شکار کے مسائل پر تحریر کردہ ہے۔ کتاب میں 300 کتب کے حوالے درج ہیں۔ کتاب کا اصل قلمی نسخہ کتب خانہ درگاہ خیاری شریف تعلقہ سکرنڈ میں موجود ہے، اس کے علاوہ کتب خانہ گڑھی یاسین، علامہ غلام مصطفٰی قاسمی لائبریری حیدرآباد، کتب خانہ پیر محب اللہ راشدی نیو سعید آباد ضلع مٹیاری، کتب خانہ سرہندی مٹیاری، انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی جامشورو، کتب خانہ درگاہ چوٹیاری، سندھ یونیورسٹی لائبریری جامشورو اور سید محمد حسین شاہ سجاولی لائبریری میں بھی اس کتاب کے قلمی نسخے موجود ہیں۔
4شد النطاق فيما يلحق من الطلاقفقہنثر166 جمادی الثانی، 1133ھمطبع مصطفائی / ذوالقعدہ 1300ھاس کتاب میں طلاق کے مسائل پر تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب میں 28 کتب کے حوالاجات دیے گئے ہیں۔
5جنة النعيم في فضائل القرآن الكريمقرآننثر184ربیع الاول1134ھفقیر محمدنامعلوماس کتاب میں قرآن مجید کی سورتوں اور آیات کی فضیلت، احادیث اور مختلف روایات کی روشنی میں بیان کی گئی ہے۔ کتاب کے قلمی نسخے کتب خانہ پیر جھنڈے والے، کتب خانہ گڑھی یاسین، کتب خانہ پیر محب اللہ راشدی اور بدیع الدین شاہ راشدی نیو سعید آباد ضلع مٹیاری، درگاہ مُلا کاتیار، درگاہ چوٹیاری، کتب خانہ مولوی معروف، کتب خانہ مفتی عبد اللطیف ٹھٹہ میں موجود ہیں۔ اس کتاب کاسندھی ترجمہ مولانا سلیم اللہ سومرو نے کیا اور اسے سندھی ادبی بورڈ نے 2011ء میں شائع کیا ہے۔
6معيار النقاد في تميز المغشوش عن الجيادفقہنثر29جمادی الاول، 1137ھمیاں رحمت اللہنامعلوماس رسالہ میں مخدوم صاحب نے دورانِ نماز ہاتھ مرد حضرات کے لیے دورانِ نماز ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو ثابت کیا ہے۔ یہ رسالہ مخدوم محمد حیات سندھی مدنی کے حنفی مسلک کے خلاف لکھے گئے رسالے کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ اس رسالہ کا سندھ میں واحد قلمی نسخہ پیر جھنڈے کے کتب خانہ نیو سعید آباد میں موجود ہے۔
7كشف الرين عن مسئلة رفع اليدينفقہنثر5315 جمادی الثانی، 1149ھیہ کتاب مخدوم صاحب نے رفع الیدین کے رد میں تحریر کیا ہے۔ اس کتاب ایک قلمی نسخہ پیر چھنڈے کی لائبریری میں موجود ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا عبد العلیم ندوی نے کیا ہے جسے 12 صفر 1408ھ کو عبد اللہ پنہور نے نیو فیمس پرنٹنگ پریس حیدر آباد سے شائع کیا۔
8تحفة القاري بجمع المقاريفقہنثر261150ھمحمد شفیع بن احمدی قریشی9 ربیع الاول، 1383ھاس رسالہ میں مخدوم صاحب نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ فرض اور نفل نماز میں دونوں رکعتوں میں قرات برابر ہونی چاہیے۔ اس رسالہ کو عربی متن کے ساتھ مفتی محمد جان نعیمی نے مرتب کرکے 1421ھ / 2000ء میں شائع کیا اور اس رسالہ کا سندھی ترجمہ عربی متن کے ساتھ ڈاکٹر عبد القیوم سندھی کندھ کوٹ سے 2001ء میں شائع کیا۔
9القول الانور في حكم لبس الاحمر فقہنثر2316 ذوالحجہ، 1163ھاس رسالہ میں مخدوم محمد ہاشم نے مرد حضرات کے لیے لال رنگ کے کپڑے پہننے کی شرعی حیثیت کے بارے میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اسے احادیث کی روشنی میں مکروہ ثابت کیا ہے۔ اس کتاب میں مخدوم صاحب نے 100 سے زائد کتب کا حوالا دیا ہے۔ اس کتا ب ایک قلمی نسخہ کتب خانہ گڑھی یاسین میں موجود ہے۔
10بذل القوة في حوادث سني النبوةسیرت النبینثر3074 صفر 1168ھسندھی ادبی بورڈ / 1386ھ بمطابق 1966ءیہ کتاب سیرت النبی پر مبنی ہے۔ عربی متن 1966ء میں مخدوم امیر احمد نے مرتب کر کے سندھی ادبی بورڈ سے شائع کرایا۔ اس کتاب کا سندھٰی ترجمہ ڈاکٹر عبد الرسول قادری نے کیا ہے۔ پروفیسر اسرار احمد علوی نے اس کتاب پر شرح لکھی ہے اور اسے مہران اکیڈمی شکارپور سے 2004ء میں شائع کرایا ہے۔
11التحفة المرغوبة في افضلية الدعاء بعد المكتوبةفقہنثر1919 صفر، 1168ھ (تحریر کی ابتدا)موسیٰ الالیائینامعلوممدرسہ مجددیہ نعیمیہ ملیر کراچییہ کتاب دعا کی اہمیت، فضیلت، افضلیت کے متعلق اور فرض نماز کے مسنون اور افضل ہونے کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کو مفتی شجاعت علی قادری نے عربی میں مرتب کر کے مدرسہ مجددیہ نعیمیہ ملیر کراچی سے شائع کیا۔ اس کے علاوہ اردو ترجمہ ڈاکٹر پروفیسر محمد اشرف سموں نے کیا اور اسے الراشد اکیڈمی کراچی نے شائع کیا۔
12تنقيح الكلام في النھي عن قرأة الفاتحہ خلف الامامفقہنثر5624 صفر، 1169ھ10 رجب، 1169ھنامعلوماس کتاب میں فرض نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کے بارے میں ہے۔ اس میں مخدوم محمد ہاشم نے چاروں فقہی ائمہ کرام کا اس مسئلے میں اصول بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کے قلمی نسخے مدرسہ مجددیہ نعیمیہ ملیر کراچی، سندھالوجی لائبریری، کتب خانہ پیر جھندے والے مٹیاری میں موجود ہیں۔
13فرائض الاسلامعقائد / فقہنثر1288 رجب، 1171ھ (تحریر کی ابتدا)ہندو ریس دہلی /27 ذوالقعدہ 1312ھ بمطابق 1895ء، ہاشمی اکیڈمی حیدرآباد / 1378ھ بمطابق 1895ءیہ کتاب اسلامی عقائد اور فرائض پر تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب میں 1262 فرائض کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اس کا سندھی ترجمہ 1181ھ مخدوم محمد ہاشم کے فرزند مخدوم عبد اللطیف ٹھٹوی نے کیا تھا جسے موجودہ صورتخطی میں محمد انس راجپر نے مرتب کیا اور اسے سندھی زبان کا با اختیار ادارہ، حیدر آباد نے 2009ء میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ 1186ھ میں نامعلوم شخص نے فارسی اور مولانا عبد العلیم ندوی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے جو شائع ہو چکا ہے۔ اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ علامہ غلام مصطفٰی قاسمی کی ملکیت ہے۔
14الوصية الھاشميہ وصیتنثر101174ھحاجی رجب ہالائی3 جمادی الثانی، 1282ھاس رسالہ میں مخدوم صاحب نے اپنے دونوں بیٹوں، شاگردوں، مریدوں اور معتقدوں کو وصیت تحریر کی ہے۔ اسلامی عقائد اور فرائض پر تحریر کی گئی ہے۔ اس رسالہ کا سندھی ترجمہ ڈاکٹر محمد اشرف سموں نے کیا ہے اور اسے الراشد اکیڈمی کراچی نے شائع کیا۔
15بیاض ھاشميیاداشتیںنثر408 (اول) / 179 (دوم)1174ھعبد الرزاق بن ملا زکریا10 رمضان 1186ھدو جلدوں پر مشتمل یہ کتاب مخدوم صاحب کے ذاتی بیاض پر مشتمل ہے۔ مخدوم صاحب درس و تدریس، تصنیف و تالیف، تحقیق اور مطالعے کے دوران میں اہم، نایاب عبارات اور تحقیقی مسئلے سامنے آتے تھے، وہ انھیں نوٹ کرتے جاتے تھے۔ اس کتاب کے سندھ کی مختلف لائبریریوں میں بہت سے قلمی نسخے موجود ہیں۔
16قصيدة يا سالكاقصیدہنظم22مولوی حاجی لعل محمد6 شعبان 1351ھیہ عربی قصیدہ پر مشتمل رسالہ ہے۔ اس کا سندھی منظوم ترجمہ حضرت پیر غلام علی مجددی سرہندی نے کیا ہے جو ابھی تک تشنۂ اشاعت ہے۔ اس کا ایک قلمی نسخہ سرہندی لائبریری ٹنڈو سائینداد میں موجود ہے۔

فارسی

نمبر شمارکتاب کا نامموضوعصنفصفحاتسن تحریرکاتب کا نامسن کتابتطبع جدیدمختصر جائزہ
1حياة الصائمينفقہنثر47517 ذوالحجہ، 1133ھمفتی محمد سعد اللہ انصاری7 جمادی الثانی، 1336ھمخدوم صاحب عربی کتاب مظھر الانوار کا فارسی ترجمہ ہے جو مخدوم صاحب نے خود کیا۔ اس کتاب میں روزے کے احکام اور مسائل کے بارے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ متن 475 صفحات، فہرست اور کاتب کا نوٹ 15 صفات، کل 490 صفحات ہیں۔ سندھ میں اس کتاب کے بہت سے نسخے موجود ہیں۔
2فتح القوي في نسب النبيسیرت النبینثر15514 ربیع الاول، 1133ھغلام اصدیق الصدیقی السنی الحنفی4 شوال، 1351ھمطبع عثمانی کراچی / 1303ھیہ کتاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حسب نسب کے بارے میں محققانہ انداز میں تحریر کی گئی ہے۔
3حيات القلوب في زيارة المحبوب فقہنثر35027 رمضان، 1135ھمطبع کریمی بمبئی، نومبر 1880ءیہ کتاب مناسق حج و عمرہ اور زیارت روضہ کے بارے معلومات پر مشتمل ہے۔ اس ضخیم کتاب میں مخدوم صاحب نے 181 کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔
4مدح نامہ سندہتاریخنظم4016 ربیع الاول، 1146ھفقیر عبد اللہ18 صفر، 1279ھیہ کتاب سندھ کی شان، محبت، عظمت اور حب الوطنی کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ سندھی ادبی بورڈ لائبریری جامشورو میں موجود ہے۔ اس کا سندھی ترجمہ مولانا محمد ادریس ڈاہری نے کیا اور اس ترجمے کو ادارہ خدمۃ القرآن و السنۃ شاہپور جہانیاں نے 1411ھ بمطابق 1991ء میں اور سندھی زبان کا با اختیار ادارہ حیدرآباد نے 2011ء میں شائع کیا۔
5الباقيات الصالحات في ذكر الازواج الطاهراتازواج مطہراتنثر3820 شوال 1147ھ (تحریر کی ابتدا)اس رسالہ میں ازواج مطہرات کے مختصر احوال بیان کیا گیا ہے۔ اس رسالے میں مخدوم صاحب نے 45 کتبکا حوالہ دیا ہے۔ اس رسالے کے قلمی نسخے دار العلوم منصورہ ہالا، سندھالوجی، کتب خانہ گڑھی یاسین، مدرسہ مجددیہ نعیمیہ ملیر اور کتب خانہ درگاہ چوٹیاری میں موجود ہیں۔
6تحفة السالكين اليٰ جناب الامين فقہنثر1114 شعبان، 1158ھیہ رسالہ ایک مقدمہ اور تین ابواب ہر مشتمل ہے جس میں حج کی فرضیت، حج کی ادائیگی کا طریقہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روضے کی زیارت اور آداب کا بیان مختصراً درج ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کے کتب خانہ میں موجود ہے۔
7وسيلة الغريب اليٰ جناب الحبيبسیرت النبینثر2929 شعبان، 1164ھاس کتاب میں مخدوم صاحب نے اہلبیت کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں۔ اس کا اردو ترجمہ علامہ غلام مصطفٰی قاسمی نے، جبکہ سندھی ترجمہ محمد صالح کھوڑو نے کیا اور اسے روشنی پبلیکیشن کنڈیارو نے 2005ء میں شائع کیا۔
8حديقة الصفا في اسما المصطفيٰاسما النبینثر35یہ کتاب اسما النبی پر مشتمل ہے اور اس کتاب میں میں مخدوم صاحب نے توریت، زبور اور انجیل کے حوالے سے اسما النبی کی تعداد 1185 بیان کی ہے۔ اس کتاب کا مخدوم صاحب کے اپنے ہاتھ کا تحریر کردہ اور مہر شدہ قلمی نسخہ انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی جامشورو میں اور ایک قلمی نسخہ سرہندی لائبریری ٹنڈو سائینداد میں موجود ہے۔

علمی و فقہی خدمات پر تحقیقی مقالات

  • مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی: سوانح حیات اور علمی خدمتیں (پی ایچ ڈی مقالہ)، عبد الرسول قادری، نگراں: پروفیسر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، سندھ یونیورسٹی جامشورو

نمونۂ کلام

رباعی

اے عاشق صادق مھب خوش نامدر تعزیت حسین کن حزن تمام
با سوز دلت اشک ہمیں ریز زچشملیکن ندہی رازِ محبت بہ عوام

وفات

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی بروز بدھ6 رجب، 1174ھ (بمطابق 11 فروری، 1761ء) کو ٹھٹہ، سندھ میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ ٹھٹہ کے مشہور مکلی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[4][24][28][29]

حوالہ جات

بیرونی روابط