ابو حذیفہ

صحابی

ابو حذیفہ (41ق.ھ / 12ھ) غزوہ بدر میں شریک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ ابو حذیفہ کنیت ہے۔آپ نے دار ارقم میں اسلام قبول کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے اور عہد صدیقی میں جنگ یمامہ میں شہادت نوش کی۔[1]

ابو حذیفہ
عربی:أبو حذيفة بن عتبة
ابو حذيفہ بن عتبہ بن ربيعہ
 

معلومات شخصیت
پیدائشسنہ 581ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفاتسنہ 633ء (51–52 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہسہلہ بنت سہیل بن عمرو
اولادمحمد بن ابی حذیفہ
والدعتبہ بن ربیعہ   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ولید بن عتبہ ،  ہند بنت عتبہ   ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رشتے داروالد: عتبہ بن ربيعہ
والدہ: فاطمہ بنت صفوان بن امیہ
بھائی: الوليد بن عتبہ بن ربيعہ، ہند بن عتبہ
عملی زندگی
پیشہصحابی

نام و نسب

ہشیم نام ، ابو حذیفہ کنیت ، والد کا نام عتبہ اور والدہ کا نام ام صفوان تھا۔

پورا سلسلہ نسب یہ ہے :ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان القرشی۔ سردار قریش عتبہ بن ربیعہ کے فرزند تھے۔ جو غزوہ بدر میں قریش کا سپہ سالار تھا اور اسی جنگ میں مارا گیا۔

اسلام

ابو حذیفہ کے والد عتبہ ان ذی اثر رؤسائے قریش میں سے تھے۔جنھوں نے اسلام کی مخالفت میں اپنی پوری طاقت صرف کردی تھی، لیکن خود عتبہ کے لختِ جگر ابوحذیفہ نے اسلام قبول کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔

ہجرت

حضرت ابو حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ سر زمین حبش کی دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، ان کی بیوی سہلہ بنت سہیل رضی اللّٰہ عنہا بھی رفیقِ سفر تھیں، چنانچہ محمد بن ابی حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ حبش ہی میں پیدا ہوئے تھے۔[2]حبش سے مکہ واپس آئے، یہاں ہجرت کی تیاریاں ہو رہی تھیں، اس بنا پر اپنے غلام سالم کو ساتھ لے کر مدینہ پہنچے اور عباد بن بشر کے مہمان ہوئے، آنحضرت نے ان دونوں میں باہم مواخات کرا دی۔[3] [4][5][6][7]

غزوات

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اہم مشہور معرکوں میں جوش و پامردی کے ساتھ سرگرم کارزار تھے ،خصوصاً غزوۂ بدر میں کیسا عبرت انگیز منظر تھا ، جب کہ ایک طرف سے ان کے والد اور دوسری طرف سے یہ جوہر شجاعت دکھا رہے تھے ، انھوں نے اپنے والد کو مقابلہ کے لیے للکارا ان کا والد مقتول ہوا تو ابو حذیفہ کا چہرہ نہایت اداس دیکھ کر رسول اللہ نے پوچھا، ابوحذیفہ شاید تم کو اپنے باپ کا کچھ افسوس ہے، عرض کیا خدا کی قسم نہیں، مجھے اس کے مقتول ہونے کا صدمہ نہیں ہے ؛ لیکن میرا خیال تھا کہ وہ ایک ذی عقل پختہ کار و صاحب رائے شخص تھا اس بنا پر امید تھی کہ وہ دولتِ ایمان سے فائدہ اٹھائے گا؛ لیکن جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت کفر پر اس کے مرنے کا یقین دلادیا تو مجھے اپنے غلط توقع پر افسوس ہوا۔[8] [5] .[4][5][7]

شہادت

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں بعمر 54 سال شہادت پائی۔ [9]

اخلاق

حضرت ابوحذیفہؓ اپنی اخلاقی بلندی کے لحاظ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی صف میں نہایت ممتاز نظر آتے ہیں، حق پسندی ،جفاکشی وجوشِ ایمان کا اندازہ گذشتہ واقعات سے ہوا ہوگا ، غلاموں کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے، حضرت سالم ؓ ان کی بیوی حضرت ثبیتہ انصاریہؓ کے غلام تھے ،انھوں نے اُن کو آزاد کر دیا تو حضرت ابوحذیفہؓ نے ان کو اپنا متبنیٰ بنا لیا، چنانچہ وہ عموماً سالم بن ابی حذیفہؓ کے نام سے مشہور تھے۔[10]

حلیہ

قد بلند و بالا، چہرہ خوبصورت ، چشم احول ، سامنے کی طرف ایک دانت زیادہ۔

ازواج

حضرت ابوحذیفہ ؓ نے متعدد شادیاں کیں، بیویوں کے نام یہ ہیں، سہلہ بنت سہیلؓ، آمنہ بنت عمرو، ثبیتہ بنت یعار انصاریہ۔[11]

اولاد

محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سہلہ بنت سہیل رضی اللّٰہ عنہا کے بطن سے حبش میں پیدا ہوئے ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، طرف دارانِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے مصر میں مقتول ہوئے، عاصم بن ابی حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ حضرت آمنہ بنت عمرو رضی اللہ عنہا سے پیدا ہوئے، چونکہ یہ دونوں لاولد فوت ہوئے ، اس لیے حضرت ابو حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ و نسل منقطع ہو گیا۔[12]

حوالہ جات